لکھنو یکم اگست (ایس او نیوز/ایجنسیز) اپوزیشن پارٹیوں کی زبردست مخالفت اور پارٹی کی بدنامی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو بالاخر بی جے پی ہائی کمانڈ کو اُنہیں پارٹی سے نکالنے پر مجبور ہونا پڑا، حالانکہ بی جےپی کو انہیں اپنی پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ لینے کے لئے دو سال کا عرصہ لگا۔
اُناو عصمت دری معاملے میں اُترپردیش کی سیتاپور جیل میں بند کلدیپ سنگھ سینگر پر ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ ریپ کرنے کے الزام کے ساتھ ساتھ اب اُس پر ایک سڑک حادثہ کے ذریعے متاثرہ لڑکی کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام ہے حالانکہ اُس حادثے میں دو لوگ ہلاک بھی ہوچکے ہیں
بی جے پی سے چھٹی کرنے کے ساتھ ہی اُناو کی بانگرمائو اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کی ٹکٹ پر جیت درج کرنے والے کلدیپ سنگھ سینگر کا بی جے پی کے ساتھ 2017 کے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے شروع ہوا سیاسی سفر جمعرات کو بالاخر ختم ہوگیا۔ دراصل اُناو ریپ معاملے میں ملزم رکن اسمبلی سینگر کی مشکلیں 28 جولائی کو رائے بریلی کے گربخش گنج تھانہ حدود میں ہوئے ایک روڈ ایکسڈنٹ کے بعد بڑھ گئی جس میں ایک نمبر پلیٹ پر گریز لگے ٹرک نے اُناو عصمت دری معاملے کی متاثرہ کی کار کو ٹکر مار دی جس کی وجہ سے متاثرہ کی چاچی اور اُس کی خالہ کی موقع پر ہی موت ہوگئی، حادثے میں متاثرہ لڑکی اور اُس کا وکیل ابھی بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے ہیں اور ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ دونوں کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے ۔ ان دونوں کا علاج لکھنو کنگ جارج اسپتال میں چل رہا ہے۔ جمعرات کو ڈاکٹروں نے متاثرہ اور وکیل کی حالت کے بارے میں بتایا کہ دونوں کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔
اس معاملے کو لے کر ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ مختلف سماجی و خواتین پر مظالم کے خلاف لڑنے والی تنظیموں نے سینگر کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان کے خلاف احتجاج پچھلے دو سال سے ہو رہا تھا۔ اب جب کہ اناؤ عصمت دری میں متاثرہ لڑکی سڑک حادثہ میں بری طرح زخمی ہو گئی ہے اور زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی ہے، تو اس حادثہ کا الزام بھی سینگر پر لگ رہا ہے اور سی بی آئی پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ دو سال تک لوگوں کے احتجاج کے بعد اب سینگر کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ لیا گیا۔
ویسے سینگر کے خلاف پارٹی کے ذریعہ سخت رخ اختیار کیے جانے کا اندازہ اسی وقت سے لگایا جانے لگا تھا جب پارٹی اعلیٰ کمان نے یو پی بی جے پی کے صدر سوتنتر دیو سنگھ کو جمعرات صبح اچانک دہلی طلب کیا تھا۔ اس کے بعد سوتنتر دیو سنگھ اپنے ایودھیا دورے کو درمیان میں ہی چھوڑ کر خصوصی طیارہ سے دہلی چلے گئے تھے۔ اس پوری سرگرمی کو دیکھ کر سیاسی ماہرین اس بات کا قیاس لگانے لگے تھے کہ سینگر کے خلاف کسی بھی وقت کارروائی ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر پر سال 2017 میں نابالغ لڑکی نے عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق نہ صرف رکن اسمبلی بلکہ ان کے آدمیوں نے بھی اس کی عصمت کو تار تار کیا تھا۔